المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ الغش باب: دھوکا دہی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1425
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : وَمَنْ غَشَّ مُسْلِمًا فِي بَيْعٍ أَوْ شِرَاءٍ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الْيَهُودِ ؛ لِأَنَّهُمْ أَغَشُّ النَّاسِ لِلْمُسْلِمِينَ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد) بھی ہے کہ: ”اور جس نے خرید و فروخت میں کسی مسلمان کو دھوکہ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور اسے قیامت کے دن یہودیوں کے ساتھ محشور کیا جائے گا؛ کیونکہ وہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ دھوکہ دینے والے لوگ ہیں“۔ یہ ایک موضوع یعنی من گھڑت حدیث ہے۔