المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا نهى عَنْهُ مِنْ البيوع باب: ان خرید و فروخت کی صورتوں کا بیان جن سے منع کیا گیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً ، فَلَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا ثَلَاثًا ، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ .
1404 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَلَامَسُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَبَايَعُوا الْغَرَرَ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَمَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَحْلُبْهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ رَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ (گاہک کو دھوکہ دینے کے لیے تھنوں میں) جمع کیا گیا ہو، تو اسے تین دن تک اسے اپنے پاس رکھنے کا اختیار ہے، پس اگر وہ اسے پسند کرے تو اپنے پاس رکھ لے، اور اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی واپس کرے۔“ اور امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں حمید بن مسعدہ نے حدیث بیان کی، ہمیں عرعرہ بن برند نے حدیث سنائی، ہمیں اسماعیل بن مسلم مکی نے حدیث بیان کی، انہوں نے حسن بصری سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک دوسرے کے ساتھ چھو کر (بغیر دیکھے) سودا نہ کرو، اور نہ ہی (قیمت بڑھانے کے لیے جھوٹی) بولی لگاؤ، اور نہ ہی دھوکے اور نامعلوم عاقبت والی چیز کی خرید و فروخت کرو، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے، اور جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ (دھوکہ دہی کی غرض سے) تھنوں میں روکا گیا ہو تو وہ تین دن تک اس کا دودھ نکالے، پھر اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی واپس کرے۔“