المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا نهى عَنْهُ مِنْ البيوع باب: ان خرید و فروخت کی صورتوں کا بیان جن سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1403
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ( ح ) . 1403 \ 2 - وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : ثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ ، قَالَا : ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُبْتَاعَ كَالٌ بِكَالٍ دَيْنًا بِدَيْنٍ . وَلَفْظُ وَكِيعٍ ، قَالَ الْآخَرُ : أَنْ يُبْتَاعَ الْكَالِئُ بِالْكَالِئِ ، وَهُوَ الدَّيْنُ بِالدَّيْنِ . مُوسَى ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے ادھار کو ادھار کے عوض خریدنے (یعنی بیعِ کالی بکالی) سے منع فرمایا ہے“، اور وکیع کے الفاظ ہیں جبکہ دوسرے راوی نے یوں بیان کیا: ”کہ 'کالئ' کو 'کالئ' کے بدلے خریدا جائے، اور وہ ادھار کے بدلے ادھار ہی ہے“، (اس کی سند میں موجود راوی) موسیٰ ضعیف ہیں۔