❮
❯
حدیث نمبر: 1351
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ مَخْرَبَةَ وَهِيَ أُمُّ أَبِي جَهْلٍ ، وَكَانَ ابْنُهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ يَبْعَثُ إِلَيْهَا الْعِطْرَ مِنَ الْيَمَنِ فَتَبِيعُهُ إِلَى الْأُعْطِيَةِ ، قَالَتْ : فَاشْتَرَيْتُ مِنْهَا فَوَزَنَتْ لِي فَجَعَلْتُهُ فِي قَوَارِيرَ كَغَيْرِي ، فَقَالَتْ لِي : اكْتُبِي عَلَيْكِ حَقِّي ، فَقُلْتُ - يَعْنِي لِلْكَاتِبِ - : أَكْتُبُهُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ : إِنَّكِ كَبِنْتِ قَاتِلِ سَيِّدِهِ ، فَقُلْتُ : وَاللهِ مَا أَنَا بِنْتُ قَاتِلِ سَيِّدِهِ ، وَلَكِنِّي بِنْتُ قَاتِلِ عَبْدِهِ ، فَقَالَتْ : وَاللهِ لَا أَبِيعُكِ شَيْئًا أَبَدًا ، فَقُلْتُ : وَأَنَا وَاللهِ لَا أَشْتَرِي مِنْكِ شَيْئًا أَبَدًا ، فَوَاللهِ مَا هُوَ بِطِيبٍ وَلَا عَرْفٍ ثَمَّ ، ثُمَّ قَالَتْ : وَاللهِ يَا بُنَيَّ مَا شَمَمْتُ طِيبًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهُ ، وَلَكِنَّهَا حِينَ قَالَتْ مَا قَالَتْ غَضِبَتْ ، فَقُلْتُ مَا قُلْتُ .
ترجمہ

اسحاق نے وہب بن جریر، ان کے والد، محمد بن اسحاق اور ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کے واسطے سے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ”میں اور انصار کی چند خواتین اسماء بنت مخربہ کے پاس گئیں جو کہ ابو جہل کی ماں تھی، اس کا بیٹا عبد اللہ بن ابی ربیعہ اس کے پاس یمن سے خوشبو بھیجا کرتا تھا جسے وہ وظائف کی تقسیم کے وقت تک ادھار پر فروخت کرتی تھی، ربیع بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس سے خوشبو خریدی تو اس نے میرے لیے اس کا وزن کیا اور میں نے دیگر خواتین کی طرح اسے شیشیوں میں بھر لیا، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میرا حق اپنے ذمے لکھوا لو، تو میں نے کاتب سے کہا کہ اسے ربیع بنت معوذ بن عفراء کے نام پر لکھو، اسماء کہنے لگی کہ تم تو اس شخص کی بیٹی ہو جس نے اپنے سردار کو قتل کیا تھا، تو میں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں سردار کے قاتل کی بیٹی نہیں ہوں بلکہ میں تو اس کے غلام کے قاتل کی بیٹی ہوں، اس پر اسماء نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں کبھی کوئی چیز فروخت نہیں کروں گی، میں نے بھی جواباً کہا کہ اللہ کی قسم! میں بھی تم سے کبھی کوئی چیز نہیں خریدوں گی، اللہ کی قسم! اس وقت وہ خوشبو نہ تو عمدہ تھی اور نہ ہی اس میں کوئی مہک تھی، پھر ربیع نے کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کی قسم! میں نے اس سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی تھی، لیکن جب اس نے وہ بات کہی تو اسے غصہ آ گیا اور میں نے بھی وہی کہا جو میں نے کہا تھا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1351
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»