المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصناع وكسبهم باب: کاریگروں اور ان کی کمائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1341
قَالَ أَبُو يَعْلَى : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، ثَنَا قَاسِمٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَعْطَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَالَتَهُ غُلَامًا ، فَقَالَ : لَا تَجْعَلِيهِ قَصَّابًا ، وَلَا حَجَّامًا ، وَلَا صَائِغًا .ترجمہ
ابو یعلی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی خالہ کو ایک غلام عطا فرمایا اور (انہیں نصیحت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ تو قصائی بنانا، نہ پچھنے لگانے والا (حجام) بنانا اور نہ ہی اسے سنار بنانا۔“