المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قباء باب: قباء کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1327
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : أَتَى عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَأَمَرَ أَبَا لَيْلَى ، فَقَالَ لَهُ : اجْتَنِبِ الْعَوَاهِنَ ، وَاكْنُسِ الْمَسْجِدَ بِسَعَفَةٍ ، قَالَ : وَلَوْ كَانَ هَذَا الْمَسْجِدُ فِي أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ ، أَوْ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ ، لَكَانَ يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَأْتِيَهُ .ترجمہ
مسدد نے سفیان، ولید بن کثیر اور ایک شخص کے واسطے سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجدِ قبا تشریف لائے اور ابو لیلیٰ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”بوسیدہ و ناکارہ چیزوں سے اجتناب کرو اور کھجور کی شاخ سے مسجد میں جھاڑو دیا کرو۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا: ”اگر یہ مسجد افقِ عالم کے کسی بھی گوشے یا شہروں میں سے کسی بھی شہر میں واقع ہوتی، تب بھی ہمارے لیے یہی موزوں تھا کہ ہم اس کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے۔“