المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَرَمِ المدينة وَفَضْلِهَا باب: مدینہ کے حرم اور اس کی فضیلت کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَجَدَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَاصِيَةً تَقْطَعُ الْحِمَى ، فَأَخَذَ فَأْسَهَا وَعَبَاءَتَهَا ، فَاسْتَعْدَتْ عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : أَدِّ إِلَيْهَا فَأْسَهَا وَعَبَاءَتَهَا ! . فَقَالَ : وَاللهِ لَا أُؤَدِّي ، إِنَّهَا غَنِيمَةٌ غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ! قَالَ : فَلَقَدِ اتَّخَذَ سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِنْ تِلْكَ الْفَأْسِ مِسْحَاةً فَمَا زَالَ يَعْمَلُ بِهَا حَتَّى مَاتَ .
قُلْتُ : رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَغَيْرُهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ وَالسِّيَاقِ . وَفِي هَذَا زِيَادَةُ الِاسْتِعْدَاءِ إِلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَإِقْرَارُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لَهُ إِيَّاهُ عَلَى ذَلِكَ . وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعْدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ .محمد بن ابراہیم تیمی کے والد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک نافرمان عورت کو سرکاری چراگاہ کے درخت کاٹتے ہوئے پایا، تو انہوں نے اس کا کلہاڑا اور چادر لے لی۔ اس عورت نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے خلاف فریاد کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے اس کا کلہاڑا اور چادر واپس کر دو!“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! میں ہرگز واپس نہیں کروں گا؛ یہ وہ غنیمت ہے جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمائی تھی!“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسی کلہاڑے سے ایک کدال بنوا لی اور وفات تک اس سے کام لیتے رہے۔ وضاحت: اسے امام مسلم وغیرہ نے دوسرے طریق سے مختلف الفاظ و سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے؛ اس روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فریاد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھنے کا اضافہ ہے، نیز محمد بن ابراہیم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع نہیں کیا۔