المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَبِيتِ بِمِنًى باب: منیٰ میں رات بسر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1254
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ يُرَخَّصْ لِأَحَدٍ أَنْ يَبِيتَ عَنْ مِنًى إِلَّا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”کسی بھی شخص کو اس بات کی رخصت نہیں دی گئی کہ وہ (ایامِ تشریق کی) راتیں منیٰ سے باہر گزارے، سوائے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے، جنہیں حجاجِ کرام کو پانی پلانے (سقایہ) کی خدمت کے سبب یہ خصوصی اجازت دی گئی تھی۔“
اس حدیث مبارکہ سے یہ فقہی استدلال حاصل ہوتا ہے کہ حج کے دوران منیٰ میں قیام کرنا ایک لازمی امر ہے، تاہم حجاج کی خدمت یا کسی ناگزیر دینی و عوامی ضرورت کے پیشِ نظر شارع علیہ السلام کی جانب سے اس میں استثنائی رخصت دی جا سکتی ہے۔