المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفَضْلِهِ باب: یومِ عرفہ کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هُنَّ أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتُهُنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ؟ قَالَ : هُنَّ أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللهِ ، إِلَّا عَفِيرًا يُعَفَّرُ فِي التُّرَابِ . وَمَا مِنْ يَوْمٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، يَنْزِلُ اللهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي ، شُعْثًا غُبْرًا حَاجِّينَ ، جَاؤُوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، وَلَمْ يَرَوْا رَحْمَتِي وَلَا عَذَابِي ، فَلَمْ يُرَ يَوْمًا أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ .امام ابو یعلیٰ کی روایت کے مطابق سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن افضل نہیں ہیں۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ایام اپنی گنتی کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی افضل ہیں، سوائے اس مجاہد کے جو (دشمن کے مقابلے میں) خاکِ مقتل میں لت پت ہو جائے (یعنی شہادت پا جائے)۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یومِ عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن فضیلت والا نہیں ہے، اللہ عزوجل (اس دن) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فخر کرتے ہوئے فرشتوں سے فرماتا ہے: دیکھو میرے ان بندوں کی طرف جو پراگندہ حال اور گرد میں اٹے ہوئے حج کے لیے ﴿يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾ ”ہر دور دراز کے راستے سے آتے ہیں“ (سورۃ الحج: ۲۷)، انہوں نے نہ میری رحمت دیکھی ہے نہ میرا عذاب، پس یومِ عرفہ سے زیادہ کسی اور دن دوزخ سے اتنے کثیر لوگ آزاد نہیں کیے جاتے۔“
اس حدیثِ مبارکہ سے ذوالحجہ کے عشرہِ اولیٰ کی عظمت اور خاص طور پر یومِ عرفہ کی وہ بے مثال فضیلت ثابت ہوتی ہے جس میں ربِ کریم کی رحمتِ عامہ جوش میں ہوتی ہے اور وہ اپنے حاجی بندوں کی مغفرت پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔