المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَالْإِفَاضَةِ باب: میدانِ عرفات میں وقوف کرنے اور وہاں سے کوچ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1237
الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - هُوَ ابْنُ هَارُونَ - ثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي السَّفَّاحُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : عَرَفَةُ يَوْمَ يُعْرَفُ النَّاسُ .ترجمہ
سیدنا عبدالعزیز بن عبداللہ بن خالد بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عرفہ (کا معتبر دن) وہی ہے جس دن تمام لوگ مل کر (میدانِ عرفات میں اس کی) پہچان کریں۔“
ائمہ حدیث اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس فرمانِ نبوی کا مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ یومِ عرفہ، عید الاضحیٰ اور عید الفطر جیسے ایام کا دارومدار محض انفرادی رائے پر نہیں بلکہ مسلمانوں کی جماعت، ان کے باہمی اتفاق اور سوادِ اعظم کے اجتماع پر ہے، لہٰذا جس دن امتِ مسلمہ اجتماعی طور پر یہ مناسک ادا کرے وہی دن شرعی طور پر یومِ عرفہ کہلائے گا۔