❮
❯
حدیث نمبر: 1234
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقِفًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِعَرَفَاتٍ مَعَ الْمُشْرِكِينَ ، وَرَأَيْتُهُ وَاقِفًا فِي الْإِسْلَامِ فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ اللهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَفَهُ لِذَلِكَ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ

سیدنا ربیعہ قرشی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمانہ جاہلیت میں مشرکین کے ہمراہ میدانِ عرفات میں وقوف فرماتے ہوئے دیکھا، اور پھر میں نے آپ ﷺ کو اسلام کے دور میں بھی عین اسی مقام پر وقوف کرتے ہوئے دیکھا، تو میں سمجھ گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی نے آپ ﷺ کو اس خاص جگہ ٹھہرنے کی ہدایت و توفیق عطا فرمائی تھی۔
یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے غریب ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1234
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبُ الْإِسْنَادِ . »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 3062»