❮
❯
حدیث نمبر: 1226
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْبُوذٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذِ انْتَهَتْ مَوْلَاةٌ لَهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي اسْتَلَمْتُ الْحَجَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فِي سَبْعٍ طُفْتُهُ ، فَقَالَتْ : لَا آجَرَكِ اللهُ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، هَلَّا كَبَّرْتِ وَعَقَدْتِ ، وَمَرَرْتِ ، أَرَدْتِ أَنْ تُدَافِعِي الرِّجَالَ .
ترجمہ

منبوذ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ اسی دوران ان کی ایک آزاد کردہ باندی آئی اور کہنے لگی: میں نے طواف کے سات چکروں کے دوران تین مرتبہ حجرِ اسود کا استلام کیا (اسے بوسہ دیا) ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس فعل پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے) دو یا تین بار فرمایا: ”اللہ تجھے اس کا کوئی اجر نہ دے، تو نے ایسا کیوں نہ کیا کہ دور ہی سے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتی، اشارہ کرتی اور خاموشی سے گزر جاتی؟ تو نے تو مردوں کے ہجوم میں گھسنے اور انہیں دھکے دینے کا ارادہ کیا (جو کہ ایک خاتون کے لیے قطعاً نامناسب ہے)۔“
شارحینِ حدیث کے مطابق اس روایت سے یہ فقہی قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے حجرِ اسود کا بوسہ لینا اسی وقت مستحب ہے جب مردوں کا ہجوم نہ ہو، بصورتِ دیگر اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط اور ان سے بدن مس کرنا ایک نیکی کے حصول کے لیے معصیت کا راستہ اختیار کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا ایسی صورت میں دور سے اشارہ کرنا ہی مسنون اور باعثِ اجر ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 9360»