المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُزَاحَمَةِ عَلَى تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَفَضْلِهِ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے ازدحام اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ . قَالَ : أَصَبْتَ .
رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ ، فَإِنْ كَانَ عُرْوَةُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَهُوَ صَحِيحٌ ، وَحَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَسْتَلِمْ حَالَ الْمُزَاحَمَةِ ، وَاسْتَلَمَ فِي غَيْرِهَا .سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم نے حجرِ اسود کے استلام (بوسہ دینے یا چھونے) کے معاملے میں کیا طرزِ عمل اختیار کیا؟“ میں نے عرض کیا کہ (موقع پا کر) میں نے استلام کر لیا اور (ہجوم کی وجہ سے) اسے چھوڑ بھی دیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے درست کیا۔“
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، چنانچہ اگر عروہ کا سماع سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو تو یہ روایت صحیح ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے ہجوم کی صورت میں استلام ترک کر دیا تھا جبکہ ہجوم نہ ہونے کی صورت میں استلام کر لیا تھا۔