المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
وَقَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَفْعَلُ فِي عُمْرَتِي ؟ فَنَزَلَ الْوَحْيُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ . وَكَانَ أُمَيَّةُ يُحِبُّ أَنْ يَرَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، الْحَدِيثَ .
قُلْتُ : وَهِمَ فِيهِ الْعَبَّاسُ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَالْحَدِيثُ لِيَعْلَى ، لَا مِنْ حَدِيثِ أَبِيهِ أُمَيَّةَ .سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، اس نے ایک جبہ زیب تن کر رکھا تھا جس پر زرد خوشبو (خلوق) کے اثرات نمایاں تھے، اس نے دریافت کیا: ”میں اپنے عمرے میں (احرام کے متعلق) کیا عمل کروں؟“ اسی دوران آپ ﷺ پر وحی الٰہی کا نزول شروع ہوا تو آپ ﷺ کو ایک کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا، اور (راوی کے والد) امیہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو وحی کی کیفیت کے دوران ملاحظہ کر سکیں (پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی)۔
میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند میں عباس نامی راوی سے وہم ہوا ہے، حقیقت میں یہ روایت ابن یعلیٰ بن امیہ اپنے والد (سیدنا یعلیٰ) سے بیان کرتے ہیں، پس یہ حدیث دراصل سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ہی کی ہے نہ کہ ان کے والد امیہ کی۔