المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّمَتُّعِ باب: حجِ تمتع کا بیان۔
حدیث نمبر: 1184
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَفْرِدُوا الْحَجَّ ، وَدَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ هَذَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ لَأَنْتَ ، سَلْ عَنْ هَذَا أُمَّكَ .ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے (اہلِ مکہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ”تم لوگ صرف حجِ اِفراد کیا کرو اور اپنے اس نابینا شخص (ابن عباس) کی بات چھوڑ دو،“ اس پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (برجستہ) فرمایا: ”حقیقت میں وہ تو تم خود ہو جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت سے محروم (اندھا) کر دیا ہے، اس مسئلے کی شرعی حیثیت جاننے کے لیے ذرا اپنی والدہ (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا) سے تو دریافت کرو۔“