المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّمَتُّعِ باب: حجِ تمتع کا بیان۔
حدیث نمبر: 1182
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ لَمْ يَسْعَ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى .ترجمہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ مکرمہ سے (حج کا) احرام باندھتے تو اس وقت تک صفا و مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے جب تک کہ وہ منیٰ سے (دیگر مناسکِ حج ادا کر کے) واپس تشریف نہ لاتے، یعنی وہ سعی کو طوافِ افاضہ تک مؤخر فرماتے۔
اس فقہی اثر سے ائمہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ مکہ سے احرامِ حج باندھنے والے (متمتع یا مکی) کے لیے سنت یہی ہے کہ وہ سعی کو طوافِ زیارت کے ساتھ ادا کرے اور منیٰ روانگی سے قبل سعی کرنا اس پر لازم نہیں ہے۔