المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّمَتُّعِ باب: حجِ تمتع کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ ، قَالَ ابْنُ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ : قَامَ أَبِي وَأَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَا : أَلَا تُعْلِمُ النَّاسَ أَمْرَ هَذِهِ الْمُتْعَةِ ؟ فَقَالَ : وَهَلْ بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا عَمِلَهَا ؟ أَمَّا أَنَا فَأَفْعَلُهَا .ابن طاؤوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے استفسار کیا کہ ”کیا آپ لوگوں کو اس متعہ (حجِ تمتع) کے معاملے کے بارے میں آگاہی فراہم نہیں کریں گے؟“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”بھلا کیا اب کوئی ایسا شخص باقی رہا ہے جس نے یہ عمل نہ کیا ہو؟ رہی میری بات، تو میں تو خود بھی اسی پر عمل کرتا ہوں۔“
اس روایت میں 'متعہ' سے مراد 'حجِ تمتع' ہے جس میں حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور پھر اسی سفر میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا منشا یہ تھا کہ اس عمل کی مشروعیت اب اس قدر عام اور معروف ہو چکی ہے کہ اس پر کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا۔