المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّمَتُّعِ باب: حجِ تمتع کا بیان۔
حدیث نمبر: 1178
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَمَّ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، فَقَامَ إِلَيْهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ ، قَدْ نَزَلَ بِهَا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَاعْتَمَرْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَرَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجِ تمتع (حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کر کے احرام کھولنے) سے منع کرنے کا پختہ ارادہ فرمایا، تو ان کے سامنے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ اس کے متعلق اللہ عزوجل کی کتاب (کا حکم) نازل ہو چکا ہے اور ہم نے خود رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس طریقے پر عمرہ ادا کیا ہے، چنانچہ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے ارادے سے باز آگئے۔