المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُحْرِمِ باب: حالتِ احرام والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1167
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا الْبَيْتُ دِعَامَةُ الْإِسْلَامِ ، مَنْ خَرَجَ يَؤُمُّ هَذَا الْبَيْتَ مِنْ حَاجٍّ ، أَوْ مُعْتَمِرٍ ، أَوْ زَائِرٍ ، كَانَ مَضْمُونًا عَلَى اللهِ إِنْ قَبَضَهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ رَدَّهُ رَدَّهُ بِغَنِيمَةٍ وَأَجْرٍ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بیت اللہ اسلام کا بنیادی ستون ہے، چنانچہ جو شخص حج یا عمرہ کرنے والا بن کر، یا محض (اللہ کی رضا کے لیے) زیارت کا قصد کر کے اس گھر کی طرف نکلتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کی ضمانت میں ہوتا ہے کہ اگر اللہ اس کی روح قبض کر لے تو اسے جنت میں داخل فرما دے گا، اور اگر اسے بخیر و عافیت واپس لوٹائے تو اجر و ثواب اور غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔“