المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الْإِحْرَامِ مِنْ غَيْرِ الْمِيقَاتِ باب: میقات کے علاوہ کسی اور مقام سے احرام باندھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1159
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : إِنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَرَاهُ قَالَ : يَعْنِي أَحْرَمَ مِنَ الْبَصْرَةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ بَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَأَغْلَظَ لَهُ ، وَقَالَ : يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ مِنْ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ .ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ سے احرام باندھا تھا، راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان یہی ہے کہ انہوں نے وہیں سے احرام باندھ لیا تھا، پھر جب وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہیں یہ خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی، چنانچہ انہوں نے ان پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ لوگ یہ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عام شہروں میں سے ہی کسی شہر سے احرام باندھ لیا ہے (یعنی میقات پر پہنچنے کا انتظار نہیں کیا)۔