المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ باب: دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1153
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَبِي لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلَّا مُعْتَرِضًا ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .ترجمہ
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ میرے والد حج کی استطاعت نہیں رکھتے مگر یہ کہ انہیں (بوجہِ معذوری سواری پر) باندھ دیا جائے، تو کیا میں ان کی جانب سے حج ادا کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ میری والدہ وفات پا چکی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“