المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَمْلِ عَلَى الرَّاحِلَةِ فِي الْحَجِّ يُحْسَبُ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ باب: حج کے لیے سواری فراہم کرنے کے فی سبیل اللہ ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ : أَنَّ أُمَّهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبَا مَعْقِلٍ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ لَا يَحُجَّ إِلَّا وَأَنَا مَعَهُ ، فَحَجَّ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَلَمْ أُطِقِ الْمَشْيَ ، فَسَأَلْتُهُ جِذَاذَ نَخْلَةٍ فَقَالَ : هُوَ قُوتُ عِيَالِهِ ، وَسَأَلْتُهُ بَكْرًا عِنْدَهُ ، فَقَالَ : هُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَسْتُ بِمُعْطِيكِهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مَعْقِلٍ ، مَا تَقُولُ أُمُّ مَعْقِلٍ ؟ قَالَ : صَدَقَتْ ، قَالَ : فَأَعْطِهَا بَكْرَكَ ، فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى . فَأَعْطَاهَا بَكْرَهُ .سیدنا معقل بن ابی معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: یا رسول اللہ! ابومعقل نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے بغیر حج نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے اپنی سواری پر حج کر لیا جبکہ میں پیدل چلنے کی سکت نہیں رکھتی تھی، پھر جب میں نے ان سے کھجور کے باغ کا کچھ حصہ مانگا تو انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اہل و عیال کی خوراک ہے، اور جب میں نے ان سے ایک نوجوان اونٹ مانگا جو ان کے پاس تھا تو انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کی راہ (جہاد) کے لیے وقف ہے اور میں تمہیں نہیں دوں گا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابو معقل! ام معقل کیا کہہ رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انہیں اپنا وہ جوان اونٹ دے دو کیونکہ حج بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں شامل ہے“، چنانچہ انہوں نے وہ اونٹ انہیں دے دیا۔
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ حج کا مبارک سفر بھی 'فی سبیل اللہ' (اللہ کی راہ) کے اعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔