المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ الْحَجِّ عَلَى الْإِبِلِ الْجَلَّالَةِ باب: نجاست کھانے والے اونٹ پر حج کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1145
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ : قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ ، فَأُخْبِرَ أَنَّ لِمَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِبِلًا جَلَّالَةً ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأَخْرَجَهَا مِنْ مَكَّةَ ، وَقَالَ : إِبِلٌ يُحْتَطَبُ عَلَيْهَا ، وَيُنْقَلُ عَلَيْهَا الْمَاءُ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا يُحَجُّ عَلَيْهَا ، وَلَا يُعْتَمَرُ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
عبید اللہ بن ابی یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو انہیں خبر دی گئی کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کے پاس ایسے 'جلالہ' اونٹ ہیں جو گندگی اور نجاست کھاتے ہیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلب فرما کر مکہ مکرمہ سے باہر نکلوا دیا اور فرمایا کہ یہ اونٹ لکڑیاں لادنے اور پانی ڈھونے کے لیے تو استعمال ہو سکتے ہیں، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قطعی طور پر حکم دیا کہ ان پر سوار ہو کر نہ تو حج کیا جائے اور نہ ہی عمرہ ادا کیا جائے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ قولِ صحابی (موقوف) ہے۔