المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ وَغَيْرِهَا وَمَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: روزے دار کے بوسہ لینے کی کراہت اور اس کی اجازت سے متعلق روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1068
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : أُقَبِّلُ امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا بَأْسَ قَالَ : فَأُقَبِّلُ امْرَأَةً غَيْرَهَا ؟ قَالَ : أُفٍّ . قَالَ : وَسَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ .ترجمہ
سعید بن ابی سعید المقبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے“ پھر اس شخص نے پوچھا کہ کیا میں اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”تجھ پر تف ہے (یعنی یہ کیسا جاہلانہ سوال ہے)!“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہی مسئلہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ”اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“۔