❮
❯
حدیث نمبر: 1068
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : أُقَبِّلُ امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا بَأْسَ قَالَ : فَأُقَبِّلُ امْرَأَةً غَيْرَهَا ؟ قَالَ : أُفٍّ . قَالَ : وَسَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ .
ترجمہ

سعید بن ابی سعید المقبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے“ پھر اس شخص نے پوچھا کہ کیا میں اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”تجھ پر تف ہے (یعنی یہ کیسا جاہلانہ سوال ہے)!“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہی مسئلہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ”اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1068
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه موطأ مالك برقم: 1024، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7421، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 9490، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8757»