المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ وَصِحَّةِ صَوْمِ مَنْ صَامَ فِيهِ باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اور روزہ رکھنے کی صحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1042
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُوسَى ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَاصَرْنَا تُسْتَرَ وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَصَامَ وَصُمْنَا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے (ایران کے شہر) تُستر کا محاصرہ کیا اور اس وقت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے امیرِ لشکر تھے، چنانچہ انہوں نے بھی روزہ رکھا اور ہم نے بھی ان کی معیت میں روزہ رکھا۔
وضاحت: ائمہ حدیث کے نزدیک اس روایت سے سفر اور جہاد کے طویل محاصرے کے دوران نفلی روزوں کی فضیلت اور جواز ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ وہ دشمن کے مقابلے میں جسمانی کمزوری کا باعث نہ بنے۔