المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ وَصِحَّةِ صَوْمِ مَنْ صَامَ فِيهِ باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اور روزہ رکھنے کی صحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1041
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنِ الْغِطْرِيفِ أَبِي هَارُونَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ فِي حَاجَةٍ فِي رَمَضَانَ ، فَتَقَدَّمَ إِلَى أَحَدِهِمَا أَنْ لَا يَصُومَ ، وَسَكَتَ عَنِ الْآخَرِ فَصَامَ ، فَلَمَّا قَدِمَا قَالَ : مَا صَنَعْتُمَا ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا : صُمْتُ ، وَقَالَ الْآخَرُ : لَمْ أَصُمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كِلَاكُمَا قَدْ أَصَابَ .
إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَعَ إِرْسَالِهِ .ترجمہ
غِطریف ابو ہارون سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے مہینے میں دو اشخاص کو کسی مہم پر روانہ فرمایا، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو (سفر کی مشقت کے پیشِ نظر) پہلے ہی تاکید فرما دی تھی کہ وہ روزہ نہ رکھے جبکہ دوسرے کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی تو اس نے روزہ رکھ لیا، پھر جب وہ دونوں واپس حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم دونوں نے کیا کیا؟“ ان میں سے ایک نے عرض کیا کہ میں نے روزہ رکھا تھا اور دوسرے نے کہا کہ میں نے روزہ نہیں رکھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم دونوں نے ہی درست عمل کیا ہے۔“
یہ روایت مُرسل ہونے کے باوجود حسن سند کی حامل ہے۔