کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنت کے بالاخانوں کا بیان
حدیث نمبر: 18766
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا ، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ ، وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَانِقٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایسے بالاخانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آ جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ اس کے لئے تیار کئے ہیں ، جو کھانا کھلاتا ہے ، نرمی سے بات کرتا ہے ، مسلسل روزے رکھتا ہے اور اُس وقت نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن معانق کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (343/5)»
حدیث نمبر: 18767
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا ، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِي فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ۔ “ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کس کے لیے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے جو نرمی سے گفتگو کرے اور کھانا کھلائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر ( نماز ادا کرتے ہوئے ) رات گزار دے ، جبکہ لوگ سو رہے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس مضمون کی کچھ احادیث ، نفلی نمازوں کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18767
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف