کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنت کی صفت اور اس میں جو بھلائیاں موجود ہیں
حدیث نمبر: 18717
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّ يَوْمٍ لِلْجَنَّةِ : طِيبِي لِأَهْلِكِ ، فَتَزْدَادُ طِيبًا ، فَذَلِكَ الْبَرْدُ الَّذِي يَجِدُهُ النَّاسُ بَسَحَرٍ مِنْ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ روزانہ جنت سے فرماتا ہے : تم اپنے اہل کے لئے خوشبودار ہو جاؤ ، تو اس کی خوشبو میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ وہ ٹھنڈک ہے جو لوگ محسوس کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18717
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (75)»
حدیث نمبر: 18718
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جنت میں ایسی نعمتیں ہیں ، جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18718
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3515)»
حدیث نمبر: 18719
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَنْزِلُ فِي ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقَيْنَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَفْتَحُ الذِّكْرَ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى لَمْ يَرَهُ غَيْرُهُ ، فَيَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ مَا يَشَاءُ ، ثُمَّ يَنْزِلُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ إِلَى جَنَّةِ عَدْنٍ ، وَهِيَ الَّتِي لَمْ يَرَهَا غَيْرُهُ وَلَمْ تَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، لَا يَسْكُنُهَا مَعَهُ مِنْ بَنِي آدَمَ غَيْرُ ثَلَاثَةٍ : النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ ، ثُمَّ يَقُولُ : طُوبَى لِمَنْ دَخَلَكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیشک اللہ تعالیٰ رات کی تین گھڑیوں میں یقینی طور پر نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ ذکر ( یعنی لوح محفوظ ) کو کھولتا ہے ، جس کو اس کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا ، اور پھر جو وہ چاہتا ہے ، اسے مٹا دیتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، پھر وہ دوسری گھڑی میں جنت عدن کی طرف نزول کرتا ہے اور وہ ایسی چیز ہے جسے اس کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ، اس جنت میں پروردگار کے ساتھ اولاد آدم میں سے صرف تین قسم کے لوگ رہیں گے ، انبیاء صدیقین اور شہداء ، پھر وہ فرماتا ہے : ان لوگوں کے لئے مبارکباد ہے جو تم میں داخل ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3516)»
حدیث نمبر: 18720
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز ( یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ) تیار کی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے ، کسی کان نے سنی نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب قرقسانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، لیکن وہ جھوٹا نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18720
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1659)»
حدیث نمبر: 18721
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ، وَلَا مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں نے جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، جس کا طلبگار سو جاتا ہو ، اور جہنم جیسی ( کوئی چیز نہیں دیکھی ) جس سے بچنے والا سو جاتا ہو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18721
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1660)»