حدیث نمبر: 17624
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، - أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ - لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللَّهَ لَغَفَرَ لَكُمْ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ - أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا ; لَجَاءَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے - یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے - اگر تم اتنی خطائیں (گناہ) کرو کہ تمہاری خطائیں آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں ، پھر تم اللہ سے مغفرت طلب کرو ، تو وہ تمہیں لازماً بخش دے گا ۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے - یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے - اگر تم سے گناہ نہ سرزد ہوں ، تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو وجود میں لائے گا جو گناہ کرے گی ، پھر وہ (اللہ سے ) استغفار کرے گی تو اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا “ ۔
اسے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17624
حدیث نمبر: 17625
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ " فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” گناہ کا کفارہ ندامت ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے :
” اگر تم لوگ گناہ نہ کرو ، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آئے گا ، جو گناہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے صرف ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے :
” گناہ کا کفارہ ، ندامت ہے ۔ “
طبرانی نے یہ معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3250) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12794) اخرجه احمد فى المسند (2623)»
حدیث نمبر: 17626
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ ، ثُمَّ يَغْفِرُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ : " لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ ، وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِ الْأَوْسَطِ مُحَالًا عَلَى مَوْقُوفِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم لوگ گناہ نہ کرو ، تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا کر دے گا ، جو گناہ کریں گے اور پھر وہ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا کر دے گا ، جو گناہ کریں گے ، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں گے ، تو وہ ان کی مغفرت کر دے گا ، اور وہ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، جو معجم اوسط کی مانند ہے اور اس کی نسبت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ” موقوف “ روایت پر کی گئی ہے ، ان روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3248 و 3247) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1477)»
حدیث نمبر: 17627
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے گا ، اور اُن لوگوں کو لے آئے گا ، جو گناہ کریں گے ، اور پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں گے ، اور وہ اُن کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3251)»
حدیث نمبر: 17628
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَا ابْنَ آدَمَ ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ ، وَلَوْ أَتَيْتَنِي بِمِلْءِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً ، مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي ، وَلَوْ بَلَغَتْ خَطَايَاكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! جب تک تم مجھ سے دعا کرتے رہو گے اور مجھ سے امید رکھو گے ، میں تمہاری مغفرت کرتا رہوں گا ، خواہ تم میں جو بھی ( خامی ) ہو ، اگر تم میرے پاس زمین بھر کے گناہ لے کر آؤ گے ، تو میں زمین بھر کر مغفرت کے ہمراہ تم سے ملوں گا ، جبکہ تم کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتے ہو ، اگر تمہاری خطائیں ، آسمان کے کنارے تک پہنچ جائیں ، اور پھر تم مجھ سے مغفرت مانگو ، تو میں تمہاری مغفرت کر دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صینی ہے اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، ان دونوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (820) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12346)»
حدیث نمبر: 17629
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : لَوْ أَنَّ عَبْدِي اسْتَقْبَلَنِي بِقِرَابِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، اسْتَقْبَلْتُهُ بِقِرَابِهَا مَغْفِرَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا پروردگار فرماتا ہے : اگر میرا بندہ زمین بھر کے گناہوں کے ہمراہ میرے پاس آئے اور وہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو میں اُتنی ہی مغفرت کے ہمراہ اس سے ملوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17630
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنْ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : " عَبْدِي لَوِ اسْتَقْبَلْتَنِي بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا لَاسْتَقْبَلْتُكَ بِمِثْلِهِنَّ مَغْفِرَةً وَلَا أُبَالِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر میرا بندہ زمین بھر کر گناہوں کے ہمراہ میرے سامنے آئے ، تو میں اُتنی ہی مغفرت کے ہمراہ اس سے ملوں گا ، اور میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن زید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 17631
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنْ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : " عَبْدِي مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ، غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ " . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الَّذِي فِيهِ : " يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ " . فِي الْأَدْعِيَةِ فِي بَابِ قُدْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَاحْتِيَاجِ الْعَبْدِ إِلَيْهِ فِي كُلِّ شَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے ، ان کے پروردگار کا یہ فرمان منقول ہے :
” اے میرے بندے ! جب تک تم مجھے پکارتے رہو اور مجھ سے امید رکھو ، اور تم کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراؤ ، تو میں تمہاری ہر اس چیز کی مغفرت کر دوں گا ، جو تم میں ہو ( یعنی جو بھی گناہ تم نے کیے ہوں ) ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :
” اے میرے بندو ! تم سب گمراہ تھے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جسے میں نے ہدایت نصیب کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ دعاؤں سے متعلق کتاب میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے متعلق باب میں گزری ہے کہ بندہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح