کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہو ، اور وہ اپنی پردہ دری کرے
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرُونَ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْمُجَاهِرُونَ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَعْمَلُ الْعَمَلَ بِاللَّيْلِ فَيَسْتُرُهُ رَبُّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ يُصْبِحُ فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری ساری اُمت کو معافی مل جائے گی ، البتہ کھلے عام کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کھلے عام کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص جو رات کے وقت کوئی ( برا ) عمل کرتا ہے ، اور اس کا پروردگار اس کی پردہ پوشی کر لیتا ہے ، لیکن وہ شخص صبح کے وقت اُٹھ کر یہ کہتا ہے : اے فلاں ! میں نے گزشتہ رات یہ عمل کیا تھا ، تو وہ شخص اپنے آپ سے ، اللہ تعالیٰ کے پردے کو ہٹا دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (632)»