کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16157
عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ الْجِسْرِيِّ قَالَ : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ ، امْسَحْ وَجْهِي وَادْعُ لِي بِالْبَرَكَةِ ، فَمَسَحَ وَجْهِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، فَقَالَتْ أُمُّ الْبَنِينَ - وَهِيَ امْرَأَتُهُ - : مَا رَأَيْتُهُ مُنْتَبِهًا مِنْ نَوْمٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ عَلَى وَجْهِهِ مُدَّهَنٌ ، وَإِنْ كَانَ لَيَجْتَزِئُ بِالتَّمَرَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ میرے چہرے پر ہاتھ پھیریے ، اور میرے لئے برکت کی دعا کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، ان صاحب کی اہلیہ سیدہ ام البنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تھے ، تو ان کے چہرے پر یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے تیل لگا ہوا ہے ، اگرچہ وہ کھجوروں کے کھیتوں میں کام کر کے آئے ہوئے ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔