کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16150
عَنْ شَدَّادٍ : أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا شَدَّادُ ؟ " . قَالَ : ضَاقَتْ بِيَ الدُّنْيَا . قَالَ : " لَيْسَ عَلَيْكَ [ إِنَّ ] الشَّامُ تُفْتَحُ ، وَيُفْتَحُ بَيْتُ الْمَقْدِسِ ، فَتَكُونُ أَنْتَ وَوَلَدُكَ أَئِمَّةً فِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور گہری گہری سانسیں لے رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرے لیے دنیا تنگ ہو گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے ، شام فتح ہو گا اور تم اور تمہاری اولاد وہاں پیشواء ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7162)»