کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت حرملہ بن زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16147
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ حَرْمَلَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْإِيمَانُ هَهُنَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، وَالنِّفَاقُ هَهُنَا ، وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ ، وَلَا يَذْكُرُ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَرْمَلَةُ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرَفِ لِسَانِ حَرْمَلَةَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا صَادِقًا ، وَقَلْبًا شَاكِرًا ، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحَبَّ مَنْ يُحِبُّنِي ، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى الْخَيْرِ " . فَقَالَ حَرْمَلَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لِي إِخْوَانًا مُنَافِقِينَ كُنْتُ فِيهِمْ رَأْسًا ، أَلَا أَدُلَّكَ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَاءَنَا كَمَا جِئْتَنَا اسْتَغْفَرْنَا لَهُ كَمَا اسْتَغْفَرْنَا لَكَ ، وَمَنْ أَصَرَّ عَلَى ذَنْبِهِ فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِ ، وَلَا نَخْرِقُ عَلَى أَحَدٍ سِتْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران سیدنا حرملہ بن زید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان یہاں ہے ، انہوں نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، اور نفاق یہاں ہے ، انہوں نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ، اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تھوڑا کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حوالے سے خاموش رہے ، سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ کی زبان کا کنارہ پکڑ کر یہ دعا کی :
” اے اللہ ! اس کی زبان کو سچا اور دل کو شکر کرنے والا بنا دے ، اور اسے میری محبت اور اس شخص کی محبت نصیب کر دے ، جو مجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف پھیر دے ۔ “
سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو ہمارے پاس آئے ، جس طرح آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہیں ، تو کیا ہم اس کے لئے بھی اسی طرح دعائے مغفرت کریں گے ، جس طرح ہم آپ کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور جو شخص اپنے گناہ پر اصرار کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے اور ہم کسی کے پردے کو فاش نہیں کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
” اے اللہ ! اس کی زبان کو سچا اور دل کو شکر کرنے والا بنا دے ، اور اسے میری محبت اور اس شخص کی محبت نصیب کر دے ، جو مجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف پھیر دے ۔ “
سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو ہمارے پاس آئے ، جس طرح آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہیں ، تو کیا ہم اس کے لئے بھی اسی طرح دعائے مغفرت کریں گے ، جس طرح ہم آپ کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور جو شخص اپنے گناہ پر اصرار کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے اور ہم کسی کے پردے کو فاش نہیں کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔