کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16143
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : كُنْتُ شَرِيكًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ : أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " كُنْتَ شَرِيكًا لِي ، فَنِعْمَ الشَّرِيكُ أَنْتَ ; كُنْتَ لَا تُمَارِي وَلَا تُدَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شراکت دار تھا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو میں نے دریافت کیا : آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے شراکت دار تھے اور تم اچھے شراکت دار تھے ، اور تم نہ دھوکہ دیتے تھے اور نہ جھگڑا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف منصور بن ابواسود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (875)»
حدیث نمبر: 16144
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَايِعَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَلَمْ تَكُنْ شَرِيكًا لِي فَوَجَدْتُكَ خَيْرَ شَرِيكٍ ; لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! کیا تم میرے شراکت دار نہیں تھے ؟ اور میں نے تمہیں بہترین شراکت دار پایا ہے ، تم نہ دھوکہ دیتے تھے اور نہ جھگڑا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (701) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6693)»