کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عامر بن لقیط رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16110
عَنْ عَامِرِ بْنِ لَقِيطٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَشِّرُهُ بِإِسْلَامِ قَوْمِي وَطَاعَتِهِمْ وَافِدًا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ : " أَنْتَ الْوَافِدُ الْمَيْمُونُ ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ " . ¤ قَالَ : وَمَسَحَ نَاصِيَتِي ، ثُمَّ صَافَحَنِي وَصَبَّحَهُ قَوْمِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبَى اللَّهُ لِبَنِي عَامِرٍ إِلَّا خَيْرًا ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ نَازَعَ لَهَا لَكَانَتِ الْخِلَافَةُ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَلَكِنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ يُزَاحِمَ لَهَا " . ¤ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ قَالَ : " هَلْ أَطْعَمْتُمْ ضَيْفَكُمْ شَيْئًا ؟ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : وَضَعْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا غَيْرُهُ قَالَ : وَرَاحَتِ الْغَنَمُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ فَتَكَرَّهْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكِ ؟ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا ، إِنَّ غَنَمَنَا إِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَةِ شَاةٍ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن لقیط عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور فرمانبرداری اختیار کرنے کی خوشخبری سنائی ، میں وافد کے طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، جب میں نے آپ کو اس بارے بتایا ، تو آپ نے فرمایا : تم بابرکت وافد ہو ، اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میری قوم نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بنو عامر کے بارے میں صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے جدامجد نے اس حوالے سے ان سے اختلاف کیا ہے ، تو خلافت بنو عامر بن صعصعہ کو ملنی تھی ، لیکن کیونکہ قریش کے جدامجد کا نسب میں ان سے اختلاف ہے ، اس لئے ایسا نہیں ہوا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے مہمان کو کچھ کھلایا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی تھیں ، ہمارے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں تھا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بکریاں آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کیا جائے ، میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا الجھن ہے ؟ ہم اسے اپنے لئے ذبح کر رہے ہیں ، ہماری بکریاں جب ایک سو سے ایک بھی زائد ہو جائے ، تو ہم اسے اپنے لئے ذبح کر لیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ کذاب ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میری قوم نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بنو عامر کے بارے میں صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے جدامجد نے اس حوالے سے ان سے اختلاف کیا ہے ، تو خلافت بنو عامر بن صعصعہ کو ملنی تھی ، لیکن کیونکہ قریش کے جدامجد کا نسب میں ان سے اختلاف ہے ، اس لئے ایسا نہیں ہوا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے مہمان کو کچھ کھلایا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی تھیں ، ہمارے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں تھا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بکریاں آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کیا جائے ، میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا الجھن ہے ؟ ہم اسے اپنے لئے ذبح کر رہے ہیں ، ہماری بکریاں جب ایک سو سے ایک بھی زائد ہو جائے ، تو ہم اسے اپنے لئے ذبح کر لیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ کذاب ہے ۔