کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عوف بن قعقاع رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16102
عَنْ عَوْفِ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ : وَفَدَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ غُلَيْمٌ ، وَأَمَرَ لِكُلِّ رَجُلٍ بِبُرْدَيْنِ وَأَمَرَ لِي بِبُرْدٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَاعَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَحَدَ بُرْدَيْهِ - يَعْنِي فَاشْتَرَيْتُهُ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بُرْدَيْنِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذِهِ ؟ " . قُلْتُ : اشْتَرَيْتُهَا مِنْ فُلَانٍ قَالَ : " أَنْتَ كُنْتَ أَحَقَّ مِنْهُ ؛ إِذْ ضَيَّعَ مَا أَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن قعقاع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے ، میں ان کے ساتھ تھا اور کمسن لڑکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر فرد کو دو چادریں دینے کا حکم دیا اور مجھے ایک چادر دینے کا حکم دیا ، جب ہم وہاں سے واپس اُٹھ کے آئے تو ان میں سے ایک شخص نے اپنی دو چادروں میں سے ایک چادر فروخت کر دی ، میں نے وہ چادر خرید لی ، پھر میں دو چادریں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور دریافت کیا : یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے فلاں شخص سے خرید لی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے زیادہ حق دار تھے ، کیونکہ اس شخص نے تو اس چیز کو ضائع کر دیا ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16102
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (81/18)»