کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابومعصب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 16099
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ غُلَامٌ بِالْمَدِينَةِ يُكَنَّى أَبَا مُصْعَبٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ سُنْبُلٌ ، فَفَرَكَ سُنْبُلَةً ، ثُمَّ نَفَخَهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهِ فَأَكَلَهَا ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُعَيِّرُ مَنْ يَأْكُلُ فَرِيكَةَ السُّنْبُلِ ، فَلَمَّا دَفَعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ لَمْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ : ثُمَّ قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ : " مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا أَحَدَ قَالَ : " أَفْعَلُ " . فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي قَالَ : " أَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . فَأَتَيْتُ أُمِّي فَسَأَلَتْنِي ، فَقُلْتُ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِسُنْبُلٍ ، فَفَرَكَ مِنْهُ سُنْبُلَةً بِيَدَيْهِ الْمُبَارَكَتَيْنِ ، ثُمَّ نَفَخَهُ بِرِيقِهِ الْمُبَارَكِ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيَّ فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّهُ ، فَقَالَتْ : أَحْسَنْتَ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَدَعَا لِي . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَوَّلُهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مُرْسَلًا فِي أَثْنَاءِ الْحَدِيثِ قَالَ : قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ایک لڑکا تھا ، جس کی کنیت ابومصعب تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس وقت سنبل پڑی ہوئی تھی ، آپ نے اس سنبل کو چیرا ، پھر آپ نے اس میں دم کیا اور پھر وہ لڑکے کو دیدی ، اُس نے اس کو کھا لیا ، انصار اس بات کو عار کا باعث سمجھتے تھے کہ جو شخص سنبل کے چھلکے کو کھا لے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز اس کو دیدی ، تو اس لڑکے نے اسے واپس نہیں کیا ۔ سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اُٹھا ، ابھی زیادہ دیر دور نہیں گیا تھا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے یہ دعا کیجئے کہ وہ جنت میں ، مجھے آپ کے ساتھ رکھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے ؟ میں نے جواب دیا : کسی نے نہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ایسا کر دوں گا ، جب میں وہاں سے مڑ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : بکثرت سجدہ کر کے اپنی ذات کے بارے میں میری مدد کرنا ۔ راوی کہتے ہیں : میں اپنی والدہ کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ، تو میں نے بتایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، ایک سنبل لائی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چیرا ، اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کے ذریعے اس میں اپنا مبارک لعاب دہن ڈالا اور پھر وہ میرے سپرد کر دی ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس کو واپس کرتا ، تو میری والدہ نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے ، راوی کہتے ہیں پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کا ابتدائی حصہ یوں لگتا ہے جیسے ” مرسل “ ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابومصعب بیان کرتے ہیں ۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے ان سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالوت بن عباد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2737)»