کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16097
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : سَأَلْتُ أَبِي - عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ - : أَيُّ شَيْءٍ تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَذْكُرُ أَنَّهُ أَخَذَنِي وَأَنَا خُمَاسِيٌّ أَوْ سُدَاسِيٌّ ، فَأَجْلَسَنِي فِي حِجْرِهِ ، وَغَسَلَ رَأْسِي بِيَدِهِ ، وَدَعَا لِي وَلِذُرِّيَّتِي مِنْ بَعْدِي بِالْبَرَكَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : وَمَسَحَ رَأْسِي ، بَدَلَ : غَسَلَ . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
حمزہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا چیز یاد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا ، میں اس وقت پانچ یا شاید چھ سال کا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میرے سر کو دھویا اور میرے لئے اور میرے بعد میری ذریت کے لئے برکت کی دعا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں سر کو دھونے کی بجائے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرے سر پر مسح کیا ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں سر کو دھونے کی بجائے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرے سر پر مسح کیا ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔