حدیث نمبر: 16066
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ : أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَانَ مَحْبُوسًا بِمَكَّةَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ بَاعَ مَالًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : الْمَنَا بِنَاقَةْ بِالطَّائِفِ ، وَقَالَ : ¤ وَإِنْ أُهَاجِرْ وَأَبِعْ بِنَاقَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ مِنْهَا حِلًى وَنَاقَةْ ثُمَّ ارْمِهِمْ بِنَفْسِكَ الْمُشْتَاقَةْ ¤ . ¤ فَوَجَدَ غَفْلَةً مِنَ الْقَوْمِ ، فَخَرَجَ هُوَ وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، مُشَاةً يَخَافُونَ الطَّلَبَ ، فَسَعَوْا حَتَّى تَعِبُوا ، وَقَصَّرَ الْوَلِيدُ فَقَالَ : ¤ يَا قَدَمَيَّ أَلْحِقَانِي بِالْقَوْمِ لَا تَعِدَانِي كَسَلًا بَعْدَ الْيَوْمِ ¤ . ¤ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْأَجْرَاسِ نُكِبَ ، فَقَالَ : ¤ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ¤ . ¤ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جُزْتُ وَأَنَا مَيِّتٌ ، فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ ، وَاجْعَلْهُ مِمَّا يَلِي جِلْدِي . فَتُوُفِّيَ ، فَكَفَّنَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَمِيصِهِ ، وَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا صَبِيٌّ وَهِيَ تَقُولُ : ¤ يَا عَيْنُ ابْكِ ] الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ [ أَبَا الْوَلِيدِ ] بْنِ الْمُغِيرَهْ إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَبَا الْوَلِيدِ بْنَ الْمُغِيرَهْ ¤ قَدْ كَانَ غَيْثًا فِي السِّنِينَ وَجَعْفَرًا غَدَقًا وَمِيرَهْ . . ¤ فَقَالَ : " إِنْ كِدْتُمْ تَتَّخِذُونَ الْوَلِيدَ حَنَانًا " . فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن ایوب بن سلمہ بن عبدالولید بن مغیرہ بن عبدالله بن عمر بن مخزوم بیان کرتے ہیں : سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ میں پابند تھے ، جب انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے مکہ میں موجود اپنی زمین فروخت کر دی ، جس کا نام منا بناقہ تھا وہ طائف میں تھی ، انہوں نے یہ اشعار کہے :
” اگر میں ہجرت کر لوں اور بناقہ کو فروخت کر دوں ، اور پھر اس کے بدلے زیور اور اونٹنی خرید لوں ، اور پھر تمہارے مشتاق نفس کے ہمراہ ان پر تیر ماروں ۔ “
پھر انہیں لوگوں کی طرف سے غفلت محسوس ہوئی ، تو وہ نکل کھڑے ہوئے ، اُن کے ساتھ سیدنا عیاش بن ربیعہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ پیدل روانہ ہوئے ، انہیں یہ اندیشہ تھا کہ لوگ ان کے پیچھے نہ آ جائیں ، پھر یہ دوڑنے لگے ، یہاں تک کہ یہ تھک گئے ، ولید کا قد چھوٹا تھا ، انہوں نے یہ اشعار کہنے شروع کیے :
” اے میرے دونوں پاؤں مجھے قوم سے ملا دو ، آج کے بعد تم میرے ساتھ کسلمندی کا وعدہ نہیں کرو گے ۔ “
جب وہ ” بحرہ اضراس “ کے پاس تھے تو وہ گر گئے ، تو انہوں نے کہا:
” تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ، اور اللہ کی راہ میں تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “
جب وہ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں مر جاؤں تو آپ اپنی قمیص میں مجھے کفن دیجئے گا اور وہ قمیص میرے جسم کے ساتھ لگائی جائے ، پھر ان کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص میں انہیں کفن دیا ، ایک مرتبہ آپ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے ، تو ان کے سامنے ایک بچہ موجود تھا اور وہ یہ شعر پڑھ رہی تھیں :
” تم ولید بن ولید پر روؤ ! جو ابوالولید بن مغیرہ ہے ، بیشک ولید بن ولید ابوالولید ، خاندان کے لیے کفایت کرتا تھا ، قحط سالی میں وہ بادل تھا ، وہ زیادہ پانی والی ندی تھا اور طعام تھا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ تم لوگ ولید کو مہربان بنا لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
” اگر میں ہجرت کر لوں اور بناقہ کو فروخت کر دوں ، اور پھر اس کے بدلے زیور اور اونٹنی خرید لوں ، اور پھر تمہارے مشتاق نفس کے ہمراہ ان پر تیر ماروں ۔ “
پھر انہیں لوگوں کی طرف سے غفلت محسوس ہوئی ، تو وہ نکل کھڑے ہوئے ، اُن کے ساتھ سیدنا عیاش بن ربیعہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ پیدل روانہ ہوئے ، انہیں یہ اندیشہ تھا کہ لوگ ان کے پیچھے نہ آ جائیں ، پھر یہ دوڑنے لگے ، یہاں تک کہ یہ تھک گئے ، ولید کا قد چھوٹا تھا ، انہوں نے یہ اشعار کہنے شروع کیے :
” اے میرے دونوں پاؤں مجھے قوم سے ملا دو ، آج کے بعد تم میرے ساتھ کسلمندی کا وعدہ نہیں کرو گے ۔ “
جب وہ ” بحرہ اضراس “ کے پاس تھے تو وہ گر گئے ، تو انہوں نے کہا:
” تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ، اور اللہ کی راہ میں تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “
جب وہ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں مر جاؤں تو آپ اپنی قمیص میں مجھے کفن دیجئے گا اور وہ قمیص میرے جسم کے ساتھ لگائی جائے ، پھر ان کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص میں انہیں کفن دیا ، ایک مرتبہ آپ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے ، تو ان کے سامنے ایک بچہ موجود تھا اور وہ یہ شعر پڑھ رہی تھیں :
” تم ولید بن ولید پر روؤ ! جو ابوالولید بن مغیرہ ہے ، بیشک ولید بن ولید ابوالولید ، خاندان کے لیے کفایت کرتا تھا ، قحط سالی میں وہ بادل تھا ، وہ زیادہ پانی والی ندی تھا اور طعام تھا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ تم لوگ ولید کو مہربان بنا لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔