کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15395
عَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَاكِبًا أَخَذَ صَخْرَةً مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ فَرَمَى بِهَا لِلرُّكْنِ ، فَتَفَلَّقَتِ الصَّخْرَةُ ، فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُوْرِ قُرَيْشٍ إِلَّا دَخَلَتْهَا مِنْهَا كَسْرَةً غَيْرَ دُوْرِ بَنِي زُهْرَةَ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ مُرْسَلًا ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ایک سوار کو دیکھا جس نے ابوقتبیس پہاڑ سے ایک پتھر کو لیا اور وہ رکن کی طرف پھینکا تو پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور قریش کے ہر گھرانے میں اس کا ایک ٹکڑا داخل ہوا ، صرف بنوزہرہ کے گھرانے میں داخل نہیں ہوا ۔ ( علامه ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث آخر تک نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عروہ بن زبیر کے حوالے سے مرسل روایت کے ہونے کے طور پر یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عروہ بن زبیر کے حوالے سے مرسل روایت کے ہونے کے طور پر یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15396
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ : أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ : ¤ أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ بِتَأْوِيلِهَا فَلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ¤ بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ¤ يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ [وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ¤ حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ ] أَفِرُّ صَبَاحَ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبُهُمْ ¤ فَهُنَّ هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهِفَاتِ دِمَاءَكُمْ ¤ كِفَاحًا كَمَا يَمْرِي السَّحَايِبُ جَانِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ¤ بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْ ¤ جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا بِأَبِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ¤ إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيكَتِي ¤ زُعَازِعُ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيَصْطَلِمَنَّكُمْ ¤ بِجَأْوَاءَ يَرْدَى حَافِيَتُهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ¤ لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَحَدِيثُ رِجَالِهِ حَسَنٌ وَلَكِنَّ الْإِسْنَادَ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن عبداللہ اور دیگر افراد جن کا تعلق قریش سے ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کو جھوٹا قرار دینے کے حوالے سے یہ اشعار کہے ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بدر کے مقام پر شکست دی تھی ( وہ اشعار درج ذیل ہیں : ) ” کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑ کر بھاگنے والا شخص لے کے آیا ہے اس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا جو تیز دھار والی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نے یہ کہا: کہ آپ نے جھوٹ کہا: ہے حالانکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا: تھا سچائی کے حوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قرار دے گا جو خود جھوٹا ہو گا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کے خوف سے بھاگا تھا وہ ان میں سے سمجھ دار تھا جس کے لیے راستہ تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مدمقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچا زاد ہیں اور جنگ میں اور اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ تم لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال حسن ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال حسن ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔