کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 14798
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَرَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - خَاتَمَ الْأَوْصِيَاءِ ، وَوَصِيَّ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَمِينَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : ¤ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونَ ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيهِ الرَّايَةَ ، فَيُقَاتِلُ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَلَقَدْ قَبَضَهُ اللَّهُ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا وَصِيُّ مُوسَى ، وَعُرِجَ بِرُوحِهِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وَفِي اللَّيْلَةِ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهَا الْفُرْقَانَ ، وَاللَّهِ مَا تَرَكَ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً ، وَمَا فِي بَيْتِ مَالِهِ إِلَّا سَبْعُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ دِرْهَمًا فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِهِ ، أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا خَادِمًا لِأُمِّ كُلْثُومٍ . ¤ ثُمَّ قَالَ : مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ قَوْلُ يُوسُفَ : ( وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ) ¤ ثُمَّ أَخَذَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا ابْنُ الْبَشِيرِ ، أَنَا ابْنُ النَّذِيرِ ، وَأَنَا ابْنُ النَّبِيِّ ، أَنَا ابْنُ الدَّاعِي إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ ، وَأَنَا ابْنُ السَّرَاجِ الْمُنِيرِ ، وَأَنَا ابْنُ الَّذِي أُرْسِلَ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ افْتَرَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَوَدَّتَهُمْ وَوِلَايَتَهُمْ ؛ فَقَالَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا کہ وہ خاتم الاوصیاء ہیں ، اور انبیاء کے وصی ہیں ، صدیقین اور شہداء کے امین ہیں ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : ” اے لوگو تم سے ایک ایسا شخص جدا ہو گیا ہے پہلے والے لوگ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتے اور بعد والے لوگ اس تک پہنچ نہیں سکتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جھنڈا دیتے تھے اور جبرائیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف لڑائی میں حصہ میں لیتے تھے ، تو وہ اس وقت تک واپس نہیں آتا تھا جب تک اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب نہیں کر دیتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی روح ایسی رات میں قبض کی ہے جس رات میں اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے وصی کی روح قبض کی تھی اور ان کی روح کو اس رات میں اوپر لے گیا ہے ، جس رات میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی روح اوپر گئی تھی اور اس رات میں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرقان نازل کیا اللہ کی قسم ! انہوں نے کوئی سونا یا چاندی نہیں چھوڑا ان کے گھر میں صرف سات سو پچاس درہم تھے جو ان کی تنخواہ میں سے بچے ہوئے تھے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے ام کلثوم کے لئے کوئی خادم خرید لیں گے ۔ “ پھر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے ، اور جو مجھے نہیں پہچانتا تو میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا نواسہ حسن ہوں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی جو سیدنا یوسف علیہ السلام کا قول ہے : ” اور میں نے اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ۔ “ پھر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اللہ کی کتاب کے الفاظ استعمال کرنا شروع کیے ، میں بشیر کا بیٹا ہوں ، نذیر کا بیٹا ہوں ، نبی کا بیٹا ہوں ، اللہ کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا بیٹا ہوں ، میں سراج منیر کا بیٹا ہوں ، میں اس شخص کا بیٹا ہوں جسے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ، میں اس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دیا ، میں اس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جن سے محبت رکھنا اور دوستی رکھنا اللہ تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے ، اس نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جو چیز نازل کی ہے ۔ اس میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تم یہ فرما دو کہ میں اس بارے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ہوں ، البتہ رشتے کے حوالے سے محبت مانگتا ہوں ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2575) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1720)»
حدیث نمبر: 14799
وَفِي رِوَايَةٍ : وَفِيهَا قُتِلَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَتَى مُوسَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ . ¤ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ ، فَإِذَا حُمَّ الْوَغَى فَقَاتَلَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : وَكَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ ، وَبَعْضُ طُرُقِ الْبَزَّارِ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ، حِسَانٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اسی رات میں سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : رمضان کی ستائیسویں رات ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جھنڈا دے دیتے تھے جب جنگ چھڑ جاتی تھی ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے دائیں طرف جنگ کرتے تھے ، اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ رمضان کی اکیسویں رات تھی ( جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند اور امام بزار کی سند کے بعض طرق اور معجم کبیر میں امام طبرانی کی سند یہ سب حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6758 و 6757)»