کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قرآن کے نزول کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موجود ہونا
حدیث نمبر: 14450
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا يَوْمًا : " إِنِّي قَدْ قِيلَ لِي : اقْرَأْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ إِذَا نَزَلَ لِيَقْرَأَهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا : مجھے یہ کہا: گیا ہے کہ تم عمر بن خطاب کے سامنے تلاوت کرو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب قرآن کی کوئی آیت نازل ہو ، تو وہ اس کو سیکھیں اور پھر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2497)»