عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِطُولِهِ فِي النِّكَاحِ . وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گرفت اور صحبت کرنے کے حوالے سے ، مجھے چالیس افراد کی قوت عطا کی گئی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ طویل حدیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے ، اس میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : " فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِأَرْبَعٍ : السَّخَاءِ ، وَالشَّجَاعَةِ ، وَكَثْرَةِ الْجِمَاعِ ، وَشِدَّةِ الْبَطْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” مجھے دوسرے لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، سخاوت ، بہادری ، بکثرت صحبت کرنے کی صلاحیت اور مضبوطی سے پکڑنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَصْلَتَيْنِ : كَانَ شَيْطَانِي كَافِرًا فَأَعَانَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ، وَنَسِيتُ الْخَصْلَةَ الْأُخْرَى " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ صِرْمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ عِصْمَتِهِ مِنَ الْقَرِينِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دیگر انبیاء پر دو حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، میرا شیطان کافر تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی ، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔ “ حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں : دوسری بات میں بھول گیا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن صرمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس موضوع کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” قرین “ سے محفوظ تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن صرمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس موضوع کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” قرین “ سے محفوظ تھے ۔