حدیث نمبر: 13737
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَعِينُوا عَلَى قَضَاءِ حَوَائِجِكُمْ بِالْكِتْمَانِ ، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ الْعِجْلِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَكَذَّبَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حاجتیں پوری کروانے کے لئے ، چھپا کے رکھنے کے ذریعے مدد حاصل کرو ، کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے ، عجلی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم خالد بن معدان نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے ، عجلی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم خالد بن معدان نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13738
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَأَهِلِ النِّعَمِ حُسَّادًا فَاحْذَرُوهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس بھی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نعمتوں والے لوگوں کے حاسد ہوتے ہیں ، تو تم اُن ( حاسدین ) سے بچ کے رہو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔