کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لوگوں کے لئے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو
حدیث نمبر: 13667
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَدِّهِ يَزِيدَ بْنِ أَسَدٍ : " أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ " .
محمد محی الدین
خالد بن عبدالله قسری اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا سیدنا یزید بن اسد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔ “
حدیث نمبر: 13668
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَالِدٍ أَيْضًا قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُحِبُّ الْجَنَّةَ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
خالد کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے میرے دادا کے حوالے سے
یہ روایت بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم جنت کو پسند کرتے ہو ؟ ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم جنت کو پسند کرتے ہو ؟ ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13669
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اُسے جہنم سے بچا لیا جائے ، اور وہ جنت میں داخل ہو جائے ، تو جب اُس کی موت اس کے پاس آئے ، تو اس کا یہ حال ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہو ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔