حدیث نمبر: 13648
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ ، وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ ، وَتَرْكُهَا كُفْرٌ ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ ، وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ . وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَاوِيهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تھوڑی چیز کا شکر ادا نہیں کرتا ، وہ زیادہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ، اور جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا ، وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بیان کرنا شکر ہے ، اور اس ( بیان کرنے کے ) عمل کو ترک کرنا ، ناشکری ہے ، اور مل جل کے رہنا رحمت ہے ، اور الگ الگ ہونا عذاب ہے ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور ابوعبد الرحمان ، جس نے اسے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور ابوعبد الرحمان ، جس نے اسے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13649
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَائِلٌ ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا ، أَوْ وَحَشَ بِهَا . قَالَ : وَجَاءَ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَقَالَ لِجَارِيَةٍ : " اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عِمَارَةَ بْنِ زَاذَانَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مانگنے والا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، اُس شخص نے وہ کھجور نہیں لی ، اور اس حوالے سے وحشت کا اظہار کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور مانگنے والا آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، اُس نے کہا: سبحان اللہ ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کھجور ملی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے کہا: تم اُم سلمہ کے پاس جاؤ ! اور اُس سے کہو : کہ اپنے پاس موجود 40 درہم اس فقیر کو دیدے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمارہ بن زاذان کا معاملہ مختلف ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمارہ بن زاذان کا معاملہ مختلف ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔