کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس کا غریب پڑوسی ہو اور وہ شخص اس کے ساتھ صلہ رحمی نہ کرے
حدیث نمبر: 13558
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْسُنِي . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْسُنِي . فَقَالَ : " أَمَا لَكَ جَارٌ لَهُ فَضْلُ ثَوْبَيْنِ ؟ " . قَالَ : بَلَى ، غَيْرُ وَاحِدٍ . قَالَ : " فَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے پہننے کے لئے کچھ دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا ، اس نے پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے پہننے کے لئے کچھ دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارا کوئی ایسا پڑوسی نہیں ہے ؟ جس کے پاس اضافی دو کپڑے ہوں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ہے ! ایک سے زیادہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور اُس کو جنت میں جمع نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیاد طائی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13558
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً