کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت انفطار کا بیان
حدیث نمبر: 11472
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ اسْمُهُ أَنْ يَخْلُقَ النَّسَمَةَ ، فَجَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ ، طَارَ مَاؤُهُ فِي كُلِّ عِرْقٍ وَعَصَبٍ مِنْهَا ، فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ أَحْضَرَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ عِرْقٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آدَمَ " . ثُمَّ قَرَأَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور آدمی عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے ، تو آدمی کا نقطہ عورت کی ہر ایک رگ اور پٹھے میں پھیل جاتا ہے اور جب ساتواں دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ، اُس کے اور سیدنا آدم علیہ السلام کے درمیان موجود ہر رگ کو حاضر کر دیتا ہے “ ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” جس صورت میں ، اُس نے چاہا تمہیں ترتیب دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (106) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1636) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (290/19)»
حدیث نمبر: 11473
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " مَا وُلِدَ لَكَ ؟ " . قَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] وَمَا عَسَى أَنْ يُولَدَ لِي إِمَّا غُلَامٌ وَإِمَّا جَارِيَةٌ ؟ قَالَ : " فَمَنْ يُشْبِهُ ؟ " . قَالَ : وَمَا عَسَى أَنْ يُشْبِهَ إِمَّا أُمُّهُ وَإِمَّا أَبَاهُ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهَا : " مَهْ ، لَا تَقُولَنَّ كَذَلِكَ ، إِنَّ النُّطْفَةَ إِذَا اسْتَقَرَّتْ فِي الرَّحِمِ أَحْضَرَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّ نَسَبٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ آدَمَ ، أَمَا قَرَأْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فِي كِتَابِ اللَّهِ - تَعَالَى - فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُطَهَّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن علی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارے ہاں بچہ نہیں ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں بچہ ہونے والا ہے جو یا لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کس سے مشابہ ہو گا ؟ انہوں نے کہا: یا وہ اپنی ماں سے مشابہہ ہو گا ، یا اپنے باپ سے مشابہہ ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ٹھہر جاؤ ! تم یہ بات نہ کہو ، جب نطفۂ ، رحم میں آ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس نطفے اور سیدنا آدم علیہ السلام کے درمیان اس کے نسب میں جتنے بھی لوگ ہیں ، سب کو حاضر کرتا ہے ( اور پھر ان میں سے کسی کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے ) کیا تم نے اللہ کی کتاب میں موجود یہ آیت نہیں پڑھی ہے : ” جس صورت میں ، اُس نے چاہا تمہیں ترتیب دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطہر بن ہیثم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11473
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4624)»