کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ قریب ہے کہ وہ اس کے پاس ہجوم کر کے ہو جائیں “
حدیث نمبر: 11442
عَنْ عِكْرِمَةَ وَغَيْرِهِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ قَالَ : بِنَخْلَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا . قَالَ سُفْيَانُ : اللِّبَدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ [ كاللِّبَدِ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضِهِ ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : ” جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ عکرمہ بیان کرتے ہیں : یہ ایک باغ کی بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے ۔ ” قریب ہے کہ وہ اس کے پاس ہجوم کی شکل میں ہو جائیں“ ۔ سفیان کہتے ہیں : لفظ ” لبد “ سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں ، جس طرح لبید کی شکل میں چیز ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔