کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت طلاق کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے گنجائش بنا دیتا ہے “
حدیث نمبر: 11421
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّخِذُوا تَقْوَى اللَّهِ تِجَارَةً يَأْتِكُمُ الرِّزْقُ بِلَا بِضَاعَةٍ وَلَا تِجَارَةٍ " . ثُمَّ قَرَأَ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! اللہ کے تقوی کو تجارت کے طور پر اختیا کرو ، وہ کسی سامان اور تجارت کے بغیر تمہارے پاس رزق آئے گا “ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا کرے گا ، جو اس کے گمان میں نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11422
وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ : اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا خَلْقُ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : مَا أَرَى هَؤُلَاءِ جَلَسُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْمَعُوا مِنَّا خَيْرًا ، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأُصَدِّقَكَ ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَتُصَدِّقَنِي ، فَقَالَ : حَدِّثْنَا أَبَا عَائِشَةَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ " . قَالَ : نَعَمْ ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَفْوِيضًا وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ . قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوضحی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے تو مسجد کے حلقے اٹھ کر ان دونوں کی طرف آ گئے مسروق نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے پاس صرف اس لئے آ کے بیٹھے ہیں تاکہ ہم سے کوئی بھلائی کی بات سنیں تو یا تو تم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کر دوں گا یا میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم میری تصدیق کر دینا تو انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے تو مسروق نے بتایا میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکذیب کرتی ہے “ ۔ تو شتیر نے کہا: جی ہاں میں نے بھی ان کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حلال ، حرام ، امر اور نہی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے ، احسان کرنے ، قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فحش چیزوں اور منکر چیزوں سے منع کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ان کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ پھر انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کہ تفویض کے اعتبار سے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت یہ ہے : ” اور جو شخص ، اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے ، جہاں کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا “ ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : خوشی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زبردست آیت یہ ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، ۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 11423
وَفِي رِوَايَةٍ : إِنَّ شُتَيْرًا هُوَ الَّذِي حَدَّثَ وَقَالَ فِيهِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، قَالَ مَسْرُوقٌ : صَدَقْتَ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : شتیر نے یہ بات بیان کی تھی اور اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ کہا: اللہ کی کتاب میں موجود سب سے عظیم آیت یہ ہے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی معبود ہے اور وہ حی اور قیوم ہے “ تو مسروق نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔